حدیث نمبر: 1693
١٦٩٣ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق قال: قال أبو موسى (لعبد اللَّه) (١): ألم تسمع قول (عمار) (٢): بعثني رسول اللَّه ﷺ في حاجة فأجنبت، فلم أجد الماء فتمرغت في الصعيد، كما تمرغ الدابة، ثم أتيت النبي ﷺ فذكرت ذلك ⦗٣٣٩⦘ له فقال: "إنما (كان) (٣) يكفيك أن تقول بيديك هكذا"، ثم ضرب بيديه الأرض ضربة واحدة، ثم مسح الشمال على اليمين، وظاهر كفيه ووجهه، فقال عبد اللَّه: أو لم تر عمر لم يقنع بقول عمار! (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عبد اللہ سے فرمایا کہ کیا آپ نے حضرت عمار کا یہ قول نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے کسی کام سے بھیجا تو میں جنبی ہوگیا مجھے پانی نہ ملا تو میں مٹی میں جانور کی طرح لوٹ پوٹ ہونے لگا۔ پھر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساری بات عرض کی تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہارے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ تم اپنے دونوں ہاتھوں سے یوں کرلیتے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو ایک مرتبہ زمین پر مارا، پھر بائیں ہاتھ کو دائیں ہاتھ پر پھیرا، پھر ہاتھوں کے ظاہری حصے اور چہرے کا مسح کیا۔ یہ سن کر حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ کیا تم نہیں جانتے کہ حضرت عمر نے حضرت عمار کے قول پر اکتفا نہیں کیا تھا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، خ].
(٢) في [هـ]: (عماد).
(٣) سقط من: [هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1693
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (١١٠) وأخرجه مسلم (٣٦٨) من طريق المصنف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1693، ترقيم محمد عوامة 1689)