حدیث نمبر: 1687
١٦٨٧ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق قال: كنت جالسًا مع (عبد اللَّه) (١)، وأبي موسى، فقال أبو موسى: يا أبا عبد الرحمن أرأيت لو أن رجلًا أجنب فلم يجد الماء شهرًا كيف يصنع بالصلاة؟ وقال عبد اللَّه: لا يتيمم، وإن لم يجد الماء شهرًا، فقال أبو موسى: فكيف بهذه الآية في سورة المائدة: ﴿فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا﴾ فقال عبد اللَّه: لو رخص لهم في هذا، لأوشكوا إذا برد عليهم الماء أن يتيمموا بالصعيد (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عبد اللہ اور حضرت ابو موسیٰ کے پاس بیٹھا تھا۔ حضرت ابو موسیٰ نے کہا : ” اے ابو عبد الرحمن ! آپ کی کیا رائے ہے کہ اگر کوئی آدمی حالت جنابت میں ہو اور اسے ایک مہینے تک پانی نہ ملے تو وہ نماز کا کیا کرے ؟ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ وہ تیمم نہ کرے خواہ اسے ایک مہینے تک پانی نہ ملے۔ حضرت ابو موسیٰ نے فرمایا کہ سورة المائدہ کی اس آیت کا کیا کیا جائے ؟ : اگر تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو۔ حضرت عبد اللہ نے فرمایا کہ اگر لوگوں کو اس کی رخصت دے دی جائے تو وہ پانی کے ٹھنڈا ہونے کے خوف سے بھی تیمم کرنے لگیں گے۔

حواشی
(١) في حاشية [خ]: (ابن مسعود ﵁).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1687
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه البخاري (٣٤٦) ومسلم (٣٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1687، ترقيم محمد عوامة 1683)