مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل: (يزوج)، أيشترط إمساكا بمعروف؟ باب: کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا)یا تسریح باحسان(بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 16787
١٦٧٨٧ - حدثنا يحيى بن يمان عن سفيان عن (حبيب) (١) عن ابن (عباس) (٢): ﴿وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا﴾، قال: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) ہے۔
حواشی
(١) في [جـ، ز، س، ك]: (حسه)، وفي [هـ]: (جهينة)، وانظر: تفسير ابن أبي حاتم (٥٠٧١).
(٢) في [ز]: (عياش).