مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل: (يزوج)، أيشترط إمساكا بمعروف؟ باب: کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا)یا تسریح باحسان(بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 16786
١٦٧٨٦ - حدثنا وكيع عن إسرائيل عن جابر عن عكرمة ومجاهد ﴿وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا﴾، (قالا) (١): أخذتموهن بأمانة اللَّه، واستحللتم فروجهن بكلمة اللَّه.مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ اور حضرت مجاہد قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم نے ان سے اللہ کی امانت کو لیا ہے اور ان کی شرم گاہوں کو اپنے لئے اللہ کے کلمے سے حلال کیا ہے۔
حواشی
(١) في [جـ، ز، س، ك]: (قال).