مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل: (يزوج)، أيشترط إمساكا بمعروف؟ باب: کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا)یا تسریح باحسان(بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 16784
١٦٧٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: نا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن يحيى بن أبي كثير ﴿وَأَخَذْنَ مِنْكُمْ مِيثَاقًا غَلِيظًا﴾ قال: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾.مولانا محمد اویس سرور
حضرت یحییٰ بن ابی کثیر قرآن مجید کی آیت { وَأَخَذْنَ مِنْکُمْ مِیثَاقًا غَلِیظًا } کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اس سے مراد امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) ہے۔