مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل: (يزوج)، أيشترط إمساكا بمعروف؟ باب: کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا)یا تسریح باحسان(بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 16782
١٦٧٨٢ - حدثنا هشيم عن مغيرة عن إبراهيم قال: سألته فقلت: أكانوا يشترطون عند عقدة النكاح: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ قال: فقال: ذلك لهم وإن لم يشترطوا، ما كان أصحابنا يشترطون.مولانا محمد اویس سرور
حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے ابراہیم سے پوچھا کہ کیا اسلاف نکاح کرتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا) یا تسریح باحسان (بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگایا کرتے تھے ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ یہ شرط تو نہ لگاتے تھے بلکہ شرط لگائے بغیر اس بات کا لحاظ ہوتا تھا۔