مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في الرجل: (يزوج)، أيشترط إمساكا بمعروف؟ باب: کیا کوئی آدمی کسی لڑکی کی شادی کراتے وقت امساک بمعروف (اچھے طریقے سے نبھا کرنا)یا تسریح باحسان(بھلائی کے ساتھ رخصت کرنا) کی شرط لگاسکتا ہے؟
حدیث نمبر: 16780
١٦٧٨٠ - حدثنا ابن عيينة عن عمرو (عن) (١) ابن أبي مليكة أن ابن عمر كان إذا (أنكح) (٢) قال: أنكحك على ما قال اللَّه: ﴿فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی کا نکاح کراتے تو فرماتے کہ میں تم سے اس بات پر نکاح کراتا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے {إمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ ، أَوْ تَسْرِیحٌ بِإِحْسَانٍ } یعنی یا اچھے طریقے سے نبھاؤ یا عمدہ طریقے سے چھوڑ دو ۔
حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) كذا في [هـ]، وبقية النسخ: (نكح).