مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
الرجل يزوج ابنته، من (قال): يستأمرها باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ آدمی اپنی بیٹی کی شادی کرانے سے پہلے اس سے اجازت طلب کرے گا
١٦٧٣٤ - حدثنا (حماد بن أسامة) (١) عن (كهمس) (٢) عن ابن بريدة (قال) (٣): جاءت (فتاة) (٤) إلى عائشة فقالت: (إن) (٥) أبي زوجني (من) (٦) ابن أخيه ⦗١٧٧⦘ (ليرفع) (٧) خسيسته وإني كرهت ذلك، فقالت لها عائشة: (انتظري) (٨) حتى (يأتي) (٩) رسول اللَّه ﷺ (١٠)، فلما جاء رسول اللَّه ﷺ أرسل إلى أبيها، فجعل الأمر إليها، (فقالت) (١١): أما إذا كان الأمر إلي فقد (أجزت) (١٢) ما صنع أبي، إنما أردت (أن) (١٣) أعلم هل للنساء من الأمر شيء (١٤) (١٥).حضرت ابن بریدہ فرماتے ہیں کہ ایک جوان عورت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی اور اس نے کہا کہ میرے باپ نے میری شادی اپنے بھتیجے سے کرادی ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنی غربت کو دور کرسکے۔ مجھے یہ نکاح ناپسند ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ٹھہر جاؤ، حضور ﷺ تشریف لائیں تو فیصلہ فرمائیں گے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ سے ساری بات کا ذکر کیا گیا تو آپ نے اس کے والد کو بلا بھیجا۔ آپ نے فیصلے کا اختیار اس عورت کو دے دیا۔ اس پر اس عورت نے کہا کہ اگر فیصلے کا اختیار مجھے ہے تو میں اپنے والد کے کئے گئے نکاح کو جائز قرار دیتی ہوں۔ میں صرف یہ جاننا چاہتی تھی کہ کیا عورتوں کو کوئی حق ہوتا ہے یا نہیں ؟