حدیث نمبر: 16698
١٦٦٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن الشيباني عن أمه (عن) (١) (بحرية) (٢) بنت هاني (قالت) (٣): تزوجت القعقاع بن (شور) (٤) فسألني وجعل لي مذهبًا من (جوهر) (٥) على أن يبيت عندي ليلة فبات، فوضعت له تورًا فيه خلوق فأصبح وهو متضمخ بالخلوق، فقال (لي) (٦): (فضحتني) (٧) (فقالت) (٨) له: مثلي يكون (سرًا) (٩)؟ فجاء أبي من الأعراب، فاستعدى عليه عليًا، فقال علي للقعقاع: أدخلت؟، (فقال) (١٠): نعم؟، فأجاز النكاح (١١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت بحریہ بنت ہانیء فرماتی ہیں کہ میں نے قعقاع بن شور سے شادی کی۔ انہوں نے مجھے سونے کا زیور دیا کہ وہ میرے پاس ایک رات گذاریں۔ چناچہ انہوں نے میرے گھر رات گذاری۔ میں نے خلوق کا ایک برتن ان کے پاس رکھا۔ صبح ان کے کپڑوں پرخلوق خوشبو لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ تم نے اس خوشبو کی وجہ سے میری رسوائی کا سامان کردیا کہ اب اس شادی کا سب کو پتہ چل جائے گا۔ میں نے کہا کہ کیا مجھ جیسی سے کوئی راز رہ سکتا ہے ؟ پھر میرے دیہاتی والد آئے اور قعقاع بن شور کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قعقاع سے کہا کہ کیا تم نے اپنی بیوی سے دخول کیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نکاح کو جائز قرار دیا۔

حواشی
(١) سقط من: [ك، هـ]. وقد سقطت عن أمه من سنن البيهقي ٧/ ١١٢، وسنن الدارقطني ٣/ ٣٢٣.
(٢) في [أ، س، ط، هـ]: (بحيرة) وهكذا وردت في المنفردات ص ١٨٦، وطلبة الطلبة ١/ ١٣٨، والمغرب ١/ ٥٧، ووردت (بحرية) في سنن الدارقطني والبيهقي وطبقات ابن سعد ٣/ ١٢٧ و ٥/ ١٨، وتاريخ دمشق ٦٩/ ٦٣ والمبسوط ٥/ ١٠٧.
(٣) في [س، هـ]: (قال).
(٤) في [جـ، هـ]: (ثور).
(٥) في [أ، ب]: (جوير)، وكذا في [جـ، ط].
(٦) في [س]: (له).
(٧) في [ب]: (تصحبني).
(٨) في [هـ]: (فقلت).
(٩) في [هـ]: (شرًا).
(١٠) كذا في [س، هـ]، وفي [أ، ب، جـ، ز، ط، ك]: (قال).
(١١) مجهول؛ لجهالة بحرية وأم الشيباني.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16698
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16698، ترقيم محمد عوامة 16197)