مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
من أجازه بغير ولي ولم يفرق باب: جن حضرات کے نزدیک بغیر ولی کے نکاح کی صورت میں میاں بیوی میں جدائی نہیںکرائی جائے گی
١٦٦٩٨ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن إدريس عن الشيباني عن أمه (عن) (١) (بحرية) (٢) بنت هاني (قالت) (٣): تزوجت القعقاع بن (شور) (٤) فسألني وجعل لي مذهبًا من (جوهر) (٥) على أن يبيت عندي ليلة فبات، فوضعت له تورًا فيه خلوق فأصبح وهو متضمخ بالخلوق، فقال (لي) (٦): (فضحتني) (٧) (فقالت) (٨) له: مثلي يكون (سرًا) (٩)؟ فجاء أبي من الأعراب، فاستعدى عليه عليًا، فقال علي للقعقاع: أدخلت؟، (فقال) (١٠): نعم؟، فأجاز النكاح (١١).حضرت بحریہ بنت ہانیء فرماتی ہیں کہ میں نے قعقاع بن شور سے شادی کی۔ انہوں نے مجھے سونے کا زیور دیا کہ وہ میرے پاس ایک رات گذاریں۔ چناچہ انہوں نے میرے گھر رات گذاری۔ میں نے خلوق کا ایک برتن ان کے پاس رکھا۔ صبح ان کے کپڑوں پرخلوق خوشبو لگی ہوئی تھی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ تم نے اس خوشبو کی وجہ سے میری رسوائی کا سامان کردیا کہ اب اس شادی کا سب کو پتہ چل جائے گا۔ میں نے کہا کہ کیا مجھ جیسی سے کوئی راز رہ سکتا ہے ؟ پھر میرے دیہاتی والد آئے اور قعقاع بن شور کو حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قعقاع سے کہا کہ کیا تم نے اپنی بیوی سے دخول کیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ ہاں۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نکاح کو جائز قرار دیا۔