مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في المرأة إذا تروجت بغير ولي باب: اگر کوئی عورت ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرلے توکیاحکم ہے؟
حدیث نمبر: 16697
١٦٦٩٧ - حدثنا معاوية (بن) (١) هشام قال: حدثنا سفيان عن رجل من أهل الجزيرة عن عمر بن عبد العزيز أن رجلًا (زوّج) (٢) امرأة ولها ولي هو (أولى) (٣) منه بدروب الروم، فرد عمر النكاح وقال: الولي وإلا فالسلطان.مولانا محمد اویس سرور
اہل جزیرہ کے ایک آدمی کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کسی عورت کی شادی کرائی جبکہ اس مرد کے علاوہ اس کا کوئی اور قریب کا ولی بھی تھا۔ حضرت عمر بن عبدا لعزیز رحمہ اللہ نے اس نکاح کو مسترد کردیا اور فرمایا کہ پہلا حق ولی کا ہے پھر سلطان کا۔
حواشی
(١) في [هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب، جـ، هـ]: (تزوج).
(٣) في [جـ، هـ]: (أدنى).