مصنف ابن ابي شيبه
كتاب النكاح
في قال: لا نكاح إلا بولي أو سلطان باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ ولی یا سلطان کے بغیر نکاح نہیں ہوتا
١٦٦٨٣ - حدثنا معتمر عن أبيه قال: (قلت) (١) للحسن: جارية من أهل ⦗١٦٤⦘ الأرض (يعني) (٢) ليس لها مولى، خطبها رجل، (يزوجها) (٣) رجل من جيرانها، قال: (تأتي) (٤) الأمير قال: فإنها أضعف من ذلك، قال: فتكلم رجلًا (يكلم) (٥) لها الأمير، قال: فإنها أضعف من ذلك، قال: لا أعلم إلا (ذلك) (٦) قال: قلت له: (فالقاضي؟ قال) (٧): فالقاضي (إذن) (٨)، إلا أنه يجعل القاضي رخصة.حضرت معتمر کے والد کہتے ہیں کہ میں نے حسن سے سوال کیا کہ اگر کسی لڑکی کا کوئی ولی نہ ہو اور کوئی شخص اسے نکاح کا پیغام بھیجے تو کیا اس لڑکی ہمسایہ اس کا نکاح کرواسکتا ہے ؟ حسن نے فرمایا کہ وہ امیر وقت سے کہے گی۔ میں نے کہا کہ اگر وہ اس کی دسترس نہ رکھتی ہو تو ؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ کسی آدمی کے ذمے لگائے کہ وہ امیر سے بات کرے۔ میں نے کہا کہ اگر وہ اس کی بھی دسترس نہ رکھتی ہو تو ؟ انہوں نے فرمایا کہ میں اس سے زیادہ نہیں جانتا۔ میں نے کہا کہ کیا قاضی اس کا نکاح کراسکتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ ہاں اس صورت میں قاضی کراسکتا ہے۔ البتہ حسن نے قاضی کے لئے رخصت رکھی۔