حدیث نمبر: 16652
١٦٦٥٢ - [حدثنا] (١) أبو معاوية عن الأعمش عن إبراهيم عن علقمة قال: كنت أمشي مع عبد اللَّه بمنى، فلقيه عثمان فقام معه يحدثه فقال (له) (٢) عثمان: يا أبا عبد الرحمن! أَلا أزوجك جارية (شابة) (٣) لعلها تذكرك بعض ما مضى من زمانك؟ فقال عبد اللَّه: أما لئن قلت ذلك لقد قال لنا رسول اللَّه ﷺ: "يا معشر الشباب! من ⦗١٥٦⦘ استطاع منكم (الباءة) (٤) فليتزوج، فإنه (أغض) (٥) للبصر، ومن لم يستطع فعليه بالصوم فإنه له (وجاء) (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ میں منیٰ میں حضرت عبدا للہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل رہا تھا۔ اس دوران امیر المؤمنین حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ہوئی تو وہ ان کے ساتھ کھڑے ہوکر باتیں کرنے لگے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا اے ابو عبد الرحمن ! میں ایک جوان لڑکی سے آپ کی شادی نہ کروادوں ؟ شاید وہ آپ کے ماضی کو تازہ کرسکے۔ حضرت عبد اللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آپ بھی یہ بات کی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اے نوجوانوں ! تم میں جو شادی اور اس کے متعلقات پر دسترس رکھتا ہو اسے چاہئے کہ شادی کرلے، کیونکہ شادی نگاہ کو جھکانے والی اور شرمگاہ کو پاکیزہ بنانے والی ہے۔ جو شخص شادی کی طاقت نہ رکھتا ہو وہ مستقل روزہ رکھے کیونکہ یہ روزہ گناہوں کے مقابلے میں ڈھال بن جائے گا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، س، ز، هـ، ك].
(٢) في [أ، ب، جـ، ز، ك]: زيادة (له).
(٣) في [هـ]: (مشابة).
(٤) في [أ]: (الباءة): القدرة في النكاح.
(٥) في [هـ]: (أعفن للبصرة).
(٦) في [ز]: (وكا)، وفي حاشية [أ]: (وجاء) بكسر الواو: قاطع للتوقان.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب النكاح / حدیث: 16652
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١٩٠٥)، ومسلم (١٤٠٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 16652، ترقيم محمد عوامة 16154)