حدیث نمبر: 1658
١٦٥٨ - حدثنا وكيع عن الأعمش عن إبراهيم عن (عبد الرحمن) (١) بن يزيد عن سلمان قال له بعض المشركين -وهم يستهزؤون-: (أرى صاحبكم وهو يعلمكم حتى الخراءة) (٢)، فقال: سلمان: أجل، أمرنا أن لا نستقبل القبلة، ولا ⦗٣٣١⦘ نستنجي بدون ثلاثة أحجار (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبدالرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ بعض مشرکین نے حضرت سلمان سے مذاق کرتے ہوئے پوچھا کہ میں تمہارے صاحب ( (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ) کو دیکھتا ہوں کہ وہ تمہیں ہر چیز حتی کہ استنجا کا طریقہ بھی سکھاتے ہیں ؟ ! حضرت سلمان فرماتے ہیں کہ کیوں نہیں، انہوں نے ہمیں اس بات کا حکم دیا کہ ہم دورانِ رفعِ حاجت قبلہ کی طرف رخ نہ کریں اور تین پتھروں سے کم میں استنجا نہ کریں۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، جـ، خ].
(٢) في [د]: (قيل له قد علمكم نبيكم كل شيء).
(٣) في حاشية [د]: (معمر عن هشام بن عروة عن رجل من مزينة عن أبيه عن النبي ﷺ قال: "الاستطابة ثلاثة أحجار ليس فيهن رجيع" -معمر عن أبي إسحاق عن علقمة بن قيس عن ابن مسعود أن النبي ﷺ ذهب لحاجته فأمر ابن مسعود أن يأتيه بثلاثة أحجار فجاءه بحجرين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1658
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، تقدم [١٦١٤].
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1658، ترقيم محمد عوامة 1654)