مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الطهارة
من كان يقول: إذا خرج من الغائط؛ فليستنج بالماء باب: جو حضرات یہ فرماتے ہیں کہ پاخانہ کرنے کے بعد پانی سے استنجاء کرنا چاہئے
حدیث نمبر: 1646
١٦٤٦ - حدثنا حفص عن داود (وابن) (١) أبي (ليلى) (٢) عن الشعبي قال: لما نزلت هذه الآية قال رسول اللَّه ﷺ: "يا أهل قباء، ما هذا الثناء الذي أثنى اللَّه عليكم؟ " قالوا: ما منا أحد إلا وهو يستنجي بالماء من الخلاء: ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾ [التوبة: ١٠٨] (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت شعبی فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اے قباء والو ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری تعریف آخر کس بات پر کی ہے ؟ انہوں نے کہا کہ ہم میں ہر شخص جب وہ بیت الخلاء سے باہر آتا ہے تو پانی سے استنجاء کرتا ہے۔ وہ آیت یہ ہے : اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاک رہنے کا خیال رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ خوب پا ک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، س، ط، ك، ل، هـ] (بن)، وانظر: تفسير الطبري ١١/ ٣٠، وسنن البيهقي الصغرى ١/ ٥٩.
(٢) في [خ]: (هند) وفي بقية النسخ: (ليلى).