حدیث نمبر: 1645
١٦٤٥ - حدثنا يحيى بن آدم قال حدثنا مالك بن مغول قال سمعت سيارا أبا الحكم غير مرة يحدث عن شهر بن حوشب عن محمد بن يوسف بن عبد اللَّه بن سلام قال: (لما قدم رسول اللَّه ﷺ علينا -يعني قباء- قال) (١): "إن اللَّه قد أثنى ⦗٣٢٨⦘ عليكم في (الطهور) (٢) خيرًا، أفلا تخبروني؟ " قال: يعني قوله (تعالى) (٣): ﴿فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ﴾ [التوبة: ١٠٨] قال: فقالوا: يا رسول اللَّه إنا لنجده مكتوبًا علينا في التوراة: الاستنجاء بالماء (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن عبد اللہ بن سلام فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قباء تشریف لائے تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری طہارت کی تعریف فرمائی ہے، تم کیا کرتے ہو ؟ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی تھی : اس مسجد میں ایسے لوگ ہیں جو خوب پاکی کا اہتمام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خوب پاک رہنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ قباء والوں نے جواب دیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہم نے تورات میں لکھے ہوئے دیکھا تھا کہ استنجاء پانی سے ہوتا ہے۔

حواشی
(١) في [خ]: (سقط ما بين القوسين).
(٢) في [أ]: (بالطهور)
(٣) سقط من: [أ، جـ، خ، ك].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1645
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ لحال شهر.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1645، ترقيم محمد عوامة 1641)