مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
فيمن ساق هديا واجبا فعطب أيأكل منه؟ باب: جو واجب ھدی کو ہانکے پھر وہ ھدی تھک جائے تو کیا اس کو ذبح کر کے کھا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 16041
١٦٠٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن (بشر) (١) قال: حدثنا سعيد بن أبي (عروبة) (٢) عن قتادة عن سنان (بن سلمة) (٣) عن ابن عباس أن (ذؤيبًا) (٤) الخزاعي حدث أن النبي ﷺ كان يبعث معه بالبدن، فيقول: "إذا عطِبَ منها شيء ⦗٢٨⦘ فخشيت عليه موتا فانحرها ثم اغمس نعلها في دمها ثم اضرب (بها) (٥) على صفحتها، ولا تطعم منها (أنت ولا أحد) (٦) من أهل رفقتك" (٧).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت زؤیب الخزاعی نے بیان فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے ساتھ کچھ اونٹ بھیجے اور فرمایا : اگر ان میں سے کوئی اونٹ تھکن سے چور ہوجائے اور اس کے مرنے کا اندیشہ ہو تو اس کو ذبح کرلینا پھر اس کے نعل کو خون میں ڈبو دینا اور ان پاؤں کو چہرہ کی جانب کو ڈال دینا، آپ اور آپ کے جماعت کے ساتھی اس میں سے کچھ نہ کھائیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، هـ]: (بشير).
(٢) في [ز]: (عروة).
(٣) سقط من: [س، ط، هـ]، وفي [ز]: (شيبان بن سلمة).
(٤) في [أ، ب، هـ]: (ذوئب).
(٥) في [ب، جـ]: (به).
(٦) في [هـ]: (أحدًا).