مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في المحرم (يقرد) بعيره هل عليه شيء باب: محرم اگر اپنے اونٹ کی چچڑیاں صاف کر دے تو کیا اس پر کچھ لازم آئے گا؟
حدیث نمبر: 15972
١٥٩٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن نمير عن يحيى بن سعيد عن عكرمة أنه (كره) (١) أن يقرد البعير، فقال ابن عباس: انحرها، قال: فنحرها فقال: كم قتلت ⦗١٣⦘ في جلدها من قراد أو (حمنانة؟) (٢) (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عکرمہ اونٹ کی چچڑیاں صاف کرنے کو ناپسند کرتے تھے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آپ کو فرمایا کہ اونٹ کو ذبح کرو، انہوں نے اس کو ذبح کردیا، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تو نے اس کی کھال پر کتنی چچڑیاں مار دی ہیں ؟
حواشی
(١) في [س، ط، هـ]: (يكره).
(٢) في [أ، ب]: (حمم)، وفي [س]: (حمانة)، والحمنان صغار القراد.