حدیث نمبر: 15869
١٥٨٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يحيى ابن أبي زائدة عن ابن جريج قال: أخبرت عن محمد بن قيس بن مخرمة بن (المطلب) (١) أن النبي ﷺ (٢) خطب بعرفة فقال: "أما بعد، فإن هذا يوم الحج الأكبر، وإن أهل الجاهلية والأوثان كانوا يدفعون في هذا اليوم قبل غروب الشمس حين (تعتم) (٣) بها الجبال كأنها عمائم الرجال في وجوههم، وانا ندفع بعد غروبها، فلا (تعجلوا) (٤) بنا (هدينا) (٥) يخالف هدى أهل الشرك والأوثان" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ بن المطلب سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات میں خطبہ دیا اور فرمایا : أما بعد ! آج حج اکبر کا دن ہے، جاہلیت اور بت پرست لوگ اس دن غروب شمس سے پہلے ہی نکل جاتے تھے، جس وقت سورج پہاڑوں کے پیچھے ہوتا تھا گویا کہ لوگوں کے عمامے ان کے چہروں پر ہیں، ہم لوگ سورج غروب ہونے کے بعد جائیں گے پس کوئی شخص جلدی نہ کرے، ہمارا طریقہ مشرکوں اور بت پرستوں کے مخالف ہے۔
حواشی
(١) في [س، هـ]: (عبد المطلب).
(٢) في [ط]: ﵇، وفي [أ]: ﵌.
(٣) في [أ، ز، ط]: (نعيم)، وفي [هـ]: (تعم).
(٤) في [س، هـ]: (تعجلوا).
(٥) في [هـ]: (هداينا).
(٦) مجهول مرسل؛ محمد بن قيس تابعي، والراوي عنه مجهول.