مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
ما يقال عشية عرفة وما يستحب في الدعاء باب: عرفہ کی شام کیا کہا جائے گا اور کون سی دعائیں مستحب ہیں
حدیث نمبر: 15819
١٥٨١٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن (النضر) (١) بن (عربي) (٢) عن (ابن) (٣) أبي حسين قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (أكثر) (٤) دعائي ودعاء الأنبياء قبلي ⦗٥١٦⦘ بعرفة: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد بيده الخير يحيى ويميت وهو على كل شيء قدير" (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن ابی حسین سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اکثر میں اور مجھ سے پہلے انبیاء کرام عرفات میں یہ دعا مانگتے ہیں : اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہیں اس ہی کی بادشاہی اور اس ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ تمام بھلائیاں اس ہی کے قبضہ میں ہیں۔ وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے اور وہ ہر شی پر قادر ہے۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ن]: (البصير).
(٢) في [أ، ب، خ، ز، ن]: (عدي).
(٣) سقط من: [أ، ز، ن].
(٤) في [أ، ب، ن]: (أكبر).