مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
ما يقال عشية عرفة وما يستحب في الدعاء باب: عرفہ کی شام کیا کہا جائے گا اور کون سی دعائیں مستحب ہیں
١٥٨١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن موسى بن عبيدة عن أخيه عن علي قال: قال رسول اللَّه ﷺ: " (أكثر) (١) دعائي ودعاء الأنبياء قبلي بعرفة: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير، اللهم اجعل في قلبي نورًا وفي سمعي نورا وفي بصري نورا، اللهم اشرح لي صدري ويسر لي أمري وأعوذ بك من وسواس الصدر وشتات الأمر وفتنة القبر، اللهم إني أعوذ بك من شر ما يلج في الليل و (من) (٢) شر ما يلج في النهار وشر ما تهب به الرياح" (٣).حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ : اکثر میں اور میرے سے پہلے انبیاء کرام عرفات میں یہ دعا مانگتے تھے۔ اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس ہی کی بادشاہی اور اس ہی کے لیے تمام تعریفیں ہیں۔ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اے اللہ تو میرے دل، کان اور آنکھ کو منور فرما۔ اے اللہ میرے سینہ کو کھول دے اور میرے کام کو آسان کر دے۔ میں تجھ سے قلبی وساوس اور معاملہ کی سختی سے پناہ مانگتا ہوں اور فتنۂ قبر سے پناہ مانگتا ہوں۔ اے اللہ میرے یا سے فتنوں سے تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جو دن یا رات میں پیش آئیں اور جن فتنوں کو ہوا لے کر چلے۔