مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
أين يصلي الظهر يوم النفر باب: منیٰ سے جاتے وقت نماز ظہر کہاں پر ادا کی جائے گی؟
حدیث نمبر: 15705
١٥٧٠٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عبدة عن هشام عن أبيه أن النبي ﷺ كان يصلي إلى (سقع) (١) البيت ليس بينه وبين الطواف شيء، ثم أبو بكر من بعده (٢)، ثم (إن عمر رده بعد إلى الميقات) (٣) (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عروہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیت اللہ کے قریب نماز پڑھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور طواف کے درمیان کوئی چیز حائل نہ ہوتی تھی پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر صدیق ایسا فرماتے رہے، پھر حضرت عمر، پھر اس کے بعد حضرت عمر نے اس کو واپس میقات کی طرف (مقررہ حدود پر) لوٹا دیا۔
حواشی
(١) في [ب، ن]: (سفع).
(٢) في [ز]: زيادة (ثم عمر).
(٣) سقط من: [جـ].