حدیث نمبر: 15333
١٥٣٣٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يزيد بن هارون عن التيمي عن أبي (مجلز) (١) في قوله (تعالى) (٢): ﴿وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ (وَإِسْمَاعِيلُ﴾ [البقرة: ١٢٧]، قال: لما فرغ من البيت) (٣) جاءه جبريل فأراه الطواف بالبيت وأحسبه قال: والصفا والمروة، (قال) (٤) ثم انطلقا إلى العقبة فعرض (لهما) (٥) الشيطان قال: فأخذ جبريل ﵇ (٦) سبع حصيات وأعطى إبراهيم ﵇ (٧) سبع ⦗٤٠٣⦘ حصيات فرمى وكبر، وقال لإبراهيم: ارم وكبر قال: فرميا (وكبرا) (٨) مع كل رمية حتى (أفل) (٩) الشيطان، (ثم) (١٠) انطلقا إلى الجمرة الوسطى فعرض لهما الشيطان فأخذ جبريل (١١) سبع حصيات وأعطى إبراهيم (١٢) سبع حصيات فرميا (وكبرا) (١٣) مع كل رمية حتى (أفل) (١٤) الشيطان، ثم أتيا الجمرة القصوى قال: فعرض لهما الشيطان قال: فأخذ جبريل (١٥) سبع حصيات وأعطى إبراهيم (١٦) سبع حصيات وقال: ارم وكبر، فرميا وكبرا مع كل رمية حتى (أفل) (١٧) (الشيطان) (١٨) ثم أتى به منى فقال: هاهنا (يحلق) (١٩) الناس رؤوسهم، ثم أتى (به) (٢٠) جمعًا فقال: هاهنا يجمع الناس الصلاة، ثم أتى به عرفات فقال: عرفت؟ قال: نعم، قال: فمن ثم سميت عرفات.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو مجلز قرآن پاک کی آیت { وَ اِذْ یَرْفَعُ اِبْرَھٖمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَیْتِ وَ اِسْمٰعِیْلُ } (کی تفسیر میں) فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو حضرت جبرئیل آپ کے پاس آئے اور پھر آپ کو طواف کر کے دکھایا اور اچھی طرح کروایا پھر صفا ومروہ کی سعی، پھر وہ دونوں عقبہ کی طرف چلے تو شیطان ان کے سامنے آگیا، حضرت جبرئیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں اور آپ نے شیطان کو مارتے ہوئے تکبیر پڑھی اور ابراہیم سے فرمایا اس کو مارو اور تکبیر پڑھو، پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔ پھر آپ دونوں حضرات جمرہ وسطی کی طرف چلے تو شیطان پھر آپ کے سامنے آگیا، حضرت جبرئیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر کہتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔ پھر آپ دونوں جمرہ قصویٰ پر تشریف لائے تو شیطان پھر آپ کے سامنے آگیا، حضرت جبرئیل نے سات کنکریاں اٹھائیں اور ابراہیم کو بھی سات کنکریاں دیں اور آپ سے فرمایا اس کو مارو اور تکبیر پڑھو، پھر آپ دونوں نے اس کو کنکریاں ماریں اور ہر کنکری کے ساتھ تکبیر پڑھتے یہاں تک کہ شیطان چھپ (کر بھاگ) گیا۔ پھر حضرت جبرئیل آپ کے ساتھ منیٰ آئے، اور فرمایا کہ یہاں پر لوگ حلق کروائیں گے، پھر آپ کے ساتھ مزدلفہ تشریف لائے اور فرمایا کہ یہاں پر لوگ دو نمازوں کو اکٹھا ادا کریں گے پھر آپ کے ساتھ عرفات آئے اور فرمایا کہ آپ نے جان لیا ؟ آپ نے فرمایا : ہاں، اسی وجہ سے اس جگہ کا نام عرفات پڑگیا۔

حواشی
(١) في [ن]: (مجاز).
(٢) سقط من: [ز].
(٣) سقط من: [أ، ب، ن، ف].
(٤) في [ص، ز]: زيادة (قال).
(٥) في [ز]: (لها)، وفي [ن]: (لهم).
(٦) في [جـ، ص]: زيادة ﵇.
(٧) في [جـ، ص]: زيادة ﵇.
(٨) في [ب]: (وكبر).
(٩) في [أ، ب]: (أقبل).
(١٠) سقط من: (أ، ب).
(١١) في [جـ، ص]: زيادة ﵇.
(١٢) في [جـ، ص]: زيادة ﵇.
(١٣) في [ب]: (وكبر).
(١٤) في [أ، ب]: (أقبل).
(١٥) في [جـ، ص]: زيادة ﵇.
(١٦) في [جـ، ص]: زيادة ﵇.
(١٧) في [أ، ب]: (أقبل).
(١٨) سقط من: [ب، ن].
(١٩) في [ز]: (تحلق).
(٢٠) سقط من: [أ، ب، ن].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15333
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15333، ترقيم محمد عوامة 14921)