مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من كان يأمر بتعليم المناسك باب: جو حضرات مناسک حج سیکھنے کا حکم فرماتے ہیں
١٥٣٣٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا علي بن هاشم عن ابن أبي ليلى عن ابن أبي مليكة عن عبد اللَّه بن عمرو قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "أتى جبربل إبراهيم ﵉ (١) فراح به إلى منى فصلى به الصلوات جميعًا، ثم صلى به الفجر ثم غدا به إلى عرفة فنزل به حيث ينزل الناس، ثم صلى به (الصلاتين) (٢) جميعًا ثم أتى (به) (٣) الموقف حتى إذا كان (كأعجل) (٤) ما يصلي (إنسان) (٥) المغرب أفاض به (فأتى) (٦) ⦗٤٠٢⦘ جمعًا فصلى به الصلاتين (جميعًا) (٧)، ثم بات بها حتى إذا كان (كأعجل) (٨) ما يصلي أحد من الناس الفجر صلى به، ثم وقف حتى إذا كان كأبطأ ما يصلي أحد من الناس الفجر أفاض به إلى منى فرمى الجمرة، ثم ذبح وحلق ثم أفاض به، ثم أوحى اللَّه (تعالى) (٩) (بعد) (١٠) إلى نبيه ﷺ: ﴿أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا﴾ [النحل: ١٢٣] " (١١).حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : حضرت جبرئیل ابراہیم کے پاس تشریف لائے پھر ان کے ساتھ منیٰ آئے، پھر ان کے ساتھ تمام نمازیں ادا کیں، پھر فجر کی نماز ادا کی، پھر صبح کے وقت ان کے ساتھ عرفہ آئے اور اس جگہ اترے جہاں لوگ اترتے ہیں پھر ان کے ساتھ دونوں نمازیں اکٹھی ادا کیں، پھر ان کے ساتھ موقف پر تشریف لائے، یہاں تک کہ جب اتنا وقت گزر گیا کہ جس طرح ایک آدمی تیزی سے مغرب ادا کرتا ہے تو آگے چل پڑے، پھر مزدلفہ آئے اور وہاں آ کر دونوں نمازیں اکٹھی ادا کیں، پھر وہیں پر رات گزاری یہاں تک کہ جیسے کوئی شخص نماز فجر ادا کرنے میں جلدی کرتا ہے ان کے ساتھ نماز ادا کی، پھر وہیں ٹھہرے رہے، یہاں تک کہ جیسے کوئی شخص نماز فجر ادا کرنے میں سستی کرتا ہے ان کے ساتھ چلتے ہوئے منیٰ تشریف لائے اور جمرہ کی رمی فرمائی، پھر قربانی کی اور حلق کروایا پھر ان کے ساتھ چلے، پھر اللہ تعالیٰ نے بعد میں اپنے نبی پر وحی فرمائی کہ { اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرٰھِیْمَ حَنِیْفًا }۔