مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من كان يكره كراء بيوت مكة وما جاء في ذلك باب: جو حضرات مکہ مکرمہ کے گھروں کو بطور کرایہ دینے کو ناپسند کرتے ہیں اور اس کے متعلق جو وارد ہوا ہے اس کا بیان
حدیث نمبر: 15314
١٥٣١٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عيسى بن يونس عن عبيد اللَّه بن أبي زياد عن (١) أبي نجيح عن عبد اللَّه بن (عمرو) (٢) قال: الذين يأكلون أجور بيوت مكة إنما يأكلون في بطونهم نارًا (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ مکہ مکرمہ کے گھر کرایہ پردے کر ان کا کرایہ کھاتے ہیں وہ لوگ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ بھر رہے ہیں۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ن]: زيادة (ابن).
(٢) في [جـ، ص]: (عمر)، وانظر: سنن الدارقطني ٣/ ٥٧، والبيهقي ٦/ ٣٥، وتاريخ جرجان ١/ ٢٥٣، والفاكهي (٢٠٥٢)، والمطالب العالية (١٢١٠)، والأموال لأبي عبيد (١٦٣)، والدر المنثور ٦/ ٢٥، ونصب الراية ٤/ ٢٦٦.