حدیث نمبر: 1531
١٥٣١ - حدثنا ابن علية، عن ابن عون قال: قلت للقاسم بن محمد: الغدير (نأتيه) (١)، وقد ولغ فيه الكلاب، وشرب منه الحمار، (نشرب - منه؟) (٢)، قال ابن ⦗٣٠٥⦘ عون: (أو قلت) (٣) (أنتوضأ) (٤) منه؟ - فنظر إليَّ، فقال: إذا أتى أحدكم الغدير (ينتظر) (٥)، حتى يسأل: أي كلب ولغ فيه، وأي حمار شرب من هذا؟!.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عون کہتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد سے عرض کیا کہ بعض اوقات ہم ایسے تالابوں پر جاتے ہیں جن میں کتے نے منہ مارا ہوتا ہے یا گدھے نے پانی پیا ہوتا ہے۔ کیا ہم اس میں سے پی سکتے ہیں یا اس میں سے وضو کرسکتے ہیں حضرت قاسم نے میری طرف دیکھا اور فرمایا کہ جب تم کسی حوض پر جاؤ تو انتظار کرو اور سوال کرو کہ کتے نے اس میں منہ مارا ہے یا کسی گدھے نے اس میں سے پانی پیا ہے ؟

حواشی
(١) في [د]: (تأتيه).
(٢) في [د]: (تشرب منه).
(٣) سقط من: [د].
(٤) في [د] (أنتوضأ) وفي [أ]: (يتوظأ). وفي [ك]: (نتوضأ).
(٥) سقط من: [جـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1531
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1531، ترقيم محمد عوامة 1527)