حدیث نمبر: 15099
١٥٠٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن زياد بن الحصين عن أبي العالية عن ابن عباس قال: تمثل (هذا البيت) (١) وهو محرم، قال: وهن يمشين بنا هميسا … أن تصدق الطير (ننك لميسا) (٢) قال: فقيل له: تقول هذا وأنت محرم؟ فقال: إنما الفحش ما (وُوْجِه به) (٣) النساء وهم محرمون (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حالت احرام میں اس شعر کی مثال پیش کی :” وہ اونٹ کی چال چل کے ہمارے پاس سے گزرتی ہیں، اگر پرندہ سچ بولے تو ہم کسی مانوس کو محسوس کرتے ہیں۔ “ آپ سے کہا گیا کہ آپ حالت احرام میں فحش کلام کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا فحش کلام تو وہ ہوتا ہے جس سے حالت احرام میں عورتوں کو خطاب کیا جاتا تھا۔
حواشی
(١) في [ص]: (بهذا البيت شعر).
(٢) في [ص]: (يكن هميسًا)، وفي [أ، ب، جـ]: (يكن لميسًا)، وفي [ز]: (ولم يكن لميسا).
(٣) في [س، ف]: (روجع به)، وفي [ص]: (ملوحة به).