حدیث نمبر: 15072
١٥٠٧٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن أسامة بن زيد عن سالم قال: سمعت أبا هريرة (يقول) (١): (لما) (٢) قدمت من البحرين لقيني قوم من أهل العراق فسألوني عن الحلال يصيد الصيد (فيأكله) (٣) الحرام، فأفتيتهم بأكله فقدمت على عمر فسألته عن ذلك فقال: لو أفتيتهم بغيره ما أفتيت (أحدًا) (٤) ابدًا (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں بحرین سے واپس آیا تو مجھے اھل عراق کی ایک قوم ملی، انھوں نے مجھ سے پوچھا کہ حلال شخص کا شکار کیا ہوا جانور محرم کھا سکتا ہے ؟ میں نے ان کو کھانے کا فتویٰ دیا، پھر میں حضرت عمر کے پاس آیا اور آپ سے اس کے متعلق رائے لی ؟ آپ نے فرمایا (کہ تو نے صحیح فتویٰ دیا) اگر تو ان کو اس کے علاوہ کوئی فتویٰ دیتا تو تجھ سے کوئی بھی کبھی بھی فتویٰ نہ لیتا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، ن]، وفي [ن]: (قال).
(٢) سقط من: [ص].
(٣) في [ن]: (فيأكل).
(٤) في [ص]: (أخدًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15072
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أسامة صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15072، ترقيم محمد عوامة 14681)