حدیث نمبر: 15069
١٥٠٦٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير وأبو الأحوص عن عبد العزيز بن رفيع عن عبد اللَّه بن أبي قتادة قال: كان أبو قتادة في نفر محرمين وأبو قتادة محل، فرأى أصحابه حمارًا (وحشيًّا) (١) فلم (يؤذنوه) (٢) حتى أبصره، فاختلس من بعضهم سوطًا (فصرعه) (٣) فأكلوا (وحملوا) (٤) منه، فلقوا رسول اللَّه ﷺ فسألوه (عنه) (٥) فقال: "هل أشار إليه أحد منكم؟ " قالوا: لا، قال: "فكلوا" (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن ابو قتادہ سے مروی ہے کہ حضرت ابو قتادہ احرام والے لوگوں کے ساتھ تھے اور وہ خود محرم نہ تھے، ان کے ساتھیوں نے جنگلی گدھا دیکھا، ان کے ساتھیوں نے گدھے کی طرف نشاندہی نہ کی لیکن انہوں نے خود اسے دیکھ لیا۔ پس انھوں نے ان میں سے بعض کا کوڑا اٹھایا اور اس کو پچھاڑ دیا، پھر انھوں نے اس کو کھایا اور اپنے ساتھ اس کا گوشت اٹھا بھی لیا، پھر ان کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کہ کیا تم میں سے کسی نے اس شکار کی طرف اشارہ کیا تھا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس میں سے کھاؤ۔

حواشی
(١) في [جـ]: (وحشيًا)، وفي [ز]: (وحشي).
(٢) في [أ، ب]: (يوذونه)، وفي [ن]: (يؤذوه).
(٣) في [أ، ب]: (فصرعوه)، وفي حاشيتها (عنه)، وفي [ص]: (تصرعه).
(٤) سقط من: [ص].
(٥) سقط من: [ن].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 15069
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح كما أخرجه البخاري (١٨٢٤)، ومسلم (١١٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 15069، ترقيم محمد عوامة 14678)