مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في الرجل يشتري البدنة فتضل فيشتري غيرها باب: کوئی شخص اونٹ خریدے اور گم ہو جائے تو وہ اس کی جگہ دوسرا اونٹ خریدے گا
١٥٠٤٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن مجاهد عن ماعز بن مالك أو مالك بن ماعز الثقفي، قال: ساق أبي هديين عن نفسه وامرأته وبنته، فاضلهما بذي المجاز، فلما كان يوم النحر ذكر ذلك لعمر فقال: تربص اليوم وغدا وبعد (غد) (١)، فإنما النحر في هذه الثلاثة (أيام) (٢) فإن وجدت هدييك فانحرهما جميعًا، فإن لم تجدهما فاشتر هديين في اليوم الثالث فانحرهما، ولا (يحل) (٣) منك ⦗٣٣٤⦘ حرامًا حتى تنحرهما أو هديين، (آخرين) (٤)، فإن نحرت الهديين (اللذين) (٥) اشتريت، ووجدت الهديين الضالين بعد فانحرهما (٦).حضرت ماعز بن مالک الثقفی سے مروی ہے کہ میرے والد محترم نے اپنی طرف سے، اپنی اہلیہ کی طرف سے اور اپنی بیٹی کی طرف سے دو ھدی بھیجیں، وہ مقام ذوالمجاز میں آ کر گم ہوگئیں، جب قربانی کا دن آیا تو سب نے حضرت عمر سے اس کا ذکر کیا، آپ نے فرمایا کہ آج کے دن، کل اور پرسوں تک انتظار کرلو، بیشک قربانی کے یہ تین دن ہیں، اگر تمہارے جانور تمہیں مل جائیں تو ان دونوں کو ذبح کرو، اور اگر وہ نہ ملیں تو تیسرے دن ان کی جگہ دو جانور اور خریدو اور ان کو ذبح کرو اور جب تک ذبح نہ کرلو احرام نہ کھولنا، پھر خریدی ہوئی قربانی کے ذبح کرنے کے بعد وہ پہلے والے جانور بھی واپس مل جائیں تو ان کو بھی ذبح کردو۔