١٤٨٨٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا محمد بن فضيل عن عطاء بن السائب عن كثير ابن جمهان قال: خرجنا (حجاجًا) (١) ومعنا رجل من أهل الجبل لم يحج قط فأهل ⦗٣٠١⦘ بحجة وعمرة، فعاب ذلك عليه أصحابنا قال: فنزلنا قريبًا من ابن عمر قال: فقلنا (له) (٢): إن معنا (رجلًا) (٣) من أهل الجبل لم يحج قط، فأهل بحجة وعمرة فعاب ذلك عليه أصحابنا فما كفارته؟ (قال: كفارته) (٤) أن يرجع بأجرين (وترجعون) (٥) بواحد (٦).حضرت کثیر بن جمھان فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حج کے لیے نکلے ہمارے ساتھ اہل جبل کا ایک شخص بھی تھا جس نے پہلے حج نہ کیا ہوا تھا، اس نے حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا، ہمارے ساتھیوں نے اس کو معیوب اور ناپسند سمجھا، ہم لوگ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قریب ہی ٹھہرے، ہم نے ان سے عرض کیا کہ ہمارے ساتھ اہل جبل کا ایک شخص ہے جس نے پہلے حج نہیں کیا ہوا اس نے حج وعمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھا ہے اور اس چیز کو ہمارے اصحاب نے معیوب سمجھا ہے اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا اس کا کفارہ یہ ہے کہ وہ دوگنا اجر وثواب لے کر لوٹے گا اور تم لوگ ایک اجر کے ساتھ۔