حدیث نمبر: 14723
١٤٧٢٣ - (حدثنا أبو (بكر) (١) قال): (٢) حدثنا وكيع عن سوادة (بن) (٣) أبي الأسود عن أبيه (عن) (٤) عبد اللَّه بن عمرو قال: حجوا هذا البيت واستلموا هذا الحجر، فواللَّه ليرفعن أو ليصيبنه أمر من السماء إن (كانا لحجرين) (٥) أهبطا من الجنة، فرفع أحدهما وسيرفع الآخر، وإن لم يكن كما قلت، فمن مر على قبري فليقل هذا قبر عبد اللَّه بن عمرو (الكذاب) (٦) (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ بیت اللہ کا حج کرو اور حجر اسود کا استلام کرو، اللہ کی قسم ضرور بضرور یہ اٹھا لیا جائے گا یا اس کو آسمان سے کوئی امر پیش آئے گا، بیشک جنت سے دو پتھر اتارے گئے تھے ایک تو اٹھا لیا گیا ہے اور عنقریب دوسرا بھی اٹھا لیا جائے گا، اور جو میں کہہ رہا ہوں ایسا نہ ہوا تو جو شخص میری قبر پر سے گزرے وہ یوں کہے کہ یہ (حضرت) عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی قبر ہے جو (نعوذ باللہ) جھوٹا ہے۔

حواشی
(١) في [س، ن]: (أسامة).
(٢) سقط من: [أ، ب].
(٣) في [س]: (عن)
(٤) سقط من: [أ، ن].
(٥) في [ز]: (كانا بحجرين)، وفي [ص]: (كان بحجرين)، وفي [جـ]: (كانا لحجرين)، وفي [ب]: (كان الحجرين)، وفي [ن]: (كانا الحجرين).
(٦) في [أ، ب]: (الملذاب).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14723
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أبو الأسود صدوق.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14723، ترقيم محمد عوامة 14353)