حدیث نمبر: 14718
١٤٧١٨ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو الأحوص عن سماك عن خالد بن (عرعرة) (١) عن علي أن إبراهيم (٢) قال لابنه: ابغني حجرًا قال: فذهب، ثم جاء (وقد) (٣) ركبه، فقال: من أين هذا؟ قال: جاءني به من لم يتكل على (بنائك) (٤)، جاءني به جبريل من السماء (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ابراہیم نے اپنے فرزند سے فرمایا : میرے لیے پتھر تلاش کر کے لاؤ، وہ چلے گئے پھر جب واپس آئے تو (کیا دیکھتے ہیں کہ) ابراہیم پتھر پر سوار ہیں، اسماعیل نے عرض کیا (ابا جان) یہ کہاں سے آیا ؟ آپ نے فرمایا میرے پاس لے کر آئے وہ جنہوں نے تیری بنا پر بھروسہ نہیں کیا، میرے پاس یہ پتھر حضرت جبرئیل آسمان سے لے کر آئے ہیں۔

حواشی
(١) في [ص]: (عروة).
(٢) في [ص]: زيادة ﵇.
(٣) في [أ، ب، ن، ز]: (فقد).
(٤) في [أ، ب، ز]: (بنايك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14718
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن مرسل؛ سماك وخالد بن عرعرة صدوقان، وأخرجه ابن أبي حاتم في التفسير ٣/ ٧٠٨ (٣٨٢٩)، وابن جرير ١/ ٥٥١، والحاكم ٢/ ٣٢١ (٣١٥٤)، والأزرقي ١/ ٦٢، والبيهقي في دلائل النبوة ٢/ ٥٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14718، ترقيم محمد عوامة 14348)