حدیث نمبر: 14656
١٤٦٥٦ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد بن أبي زياد عن ابن سابط قال: كان الناس إذا كان الموسم بالجاهلية خرجوا فلم يبق أحد بمكة، وإنه تخلف رجل سارق فعمد إلى قطعة من ذهب فوضعها، ثم دخل ليأخذ أيضا فلما أدخل رأسه (صره) (١) البيت، فوجدوا رأسه في البيت واسته خارجه، فألقوه للكلاب واصلحوا البيت.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن سابط فرماتے ہیں کہ لوگ جاہلیت میں میلہ پر نکلے تو مکہ میں کوئی شخص بھی باقی نہ رہا، ایک شخص جو چور تھا وہ پیچھے رہ گیا اور اس نے سونے کے ایک ٹکڑے کے چوری کرنے کا ارادہ کیا اور اس کو رکھ دیا، پھر بعد میں جب وہ داخل ہوا تاکہ اس کو سونے کے ٹکڑے کو اٹھا لے، جب اس نے اپنا سر داخل کیا تو دروازہ اس پر تنگ ہوگیا، لوگوں نے اس کے سر بیت اللہ میں اور اس کی پشت کو باھر پایا تو اس کو اٹھا کر کتوں کے لیے پھینک دیا اور بیت اللہ صاف وپاک کردیا۔

حواشی
(١) في [أ، ن]: (ضره).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14656
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14656، ترقيم محمد عوامة 14294)