حدیث نمبر: 14653
١٤٦٥٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن عمرو بن مرة عن طلق ابن حبيب قال: قال عمر: يا أهل مكة اتقوا اللَّه في حرم اللَّه، أتدرون من كان ساكن (هذا البلد) (١)؟ كان به بنو فلان، فأحلوا حرمه، فأهلكوا، وكان به بنو فلان، فأحلوا حرمه، فأهلكوا، حتى ذكر ما شاء اللَّه من قبائل العرب أن يذكر، ثم قال: لأن أعمل عشر خطايا (بركبة) (٢) أحب إلي من أن أعمل هاهنا خطيئة واحدة (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمر نے ارشاد فرمایا : اے اہل مکہ ! اللہ سے ڈرو اللہ کے حرم کے بارے میں، کیا تم جانتے ہو کہ اس شہر میں کون رہا ہے ؟ فلاں قبیلہ نے اس کی حرمت کو حلال سمجھا تو وہ ھلاک کردیئے گئے، اور فلاں قبیلہ نے اس کی حرمت کو حلال سمجھا تو وہ ھلاک کر دئیے گئے، یہاں تک کہ ذکر کیا جو اللہ پاک نے چاہا عرب کے قبائل میں سے کہ ان کو ذکر کیا جائے، پھر فرمایا کہ میں مقام رکبہ میں دس غلطیاں (گناہ) کروں یہ مجھے اس سے پسند ہے کہ میں یہاں پر (حرم) میں ایک غلطی (گناہ) کروں۔
حواشی
(١) في [ص]: (عند البلد)، وفي [جـ، ز]: (هذا البلد)، وفي [أ، ب، ن]: (هذا البيت).
(٢) في [أ، ب]: (نزلته)، وفي [جـ، ص]: (تركته)، وفي [ن]: (حوليه)، وانظر: التمهيد لابن عبد البر ٦/ ٢١١، وأخبار مكة للفاكهي (١٤٩٦)، والاستذكار ٨/ ٢٥٦، وكنز العمال ١٤/ ٤٤، وشعب الإيمان للبيهقي (٤٠١٢).
(٣) منقطع؛ طلق لا يروي عن عمر.