حدیث نمبر: 14652
١٤٦٥٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن مجاهد عن (ابن عباس) (١) قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "هذه حرم -يعني مكة-[(حرمها) (٢) اللَّه (يوم خلق السموات والأرض، ووضع هذين الأخشبين، لم تحل لأحد قبلي، ولم تحل لأحد بعدي، ولم تحل لي إلا) (٣) ساعة من نهار، لا يعضد شوكها ولا ينفر صيدها ولا يختلى خلاها ولا يرفع لقطتها إلا لمنشد"، فقال العباس: يا رسول اللَّه إن أهل مكة لا صبر لهم عن الإذخر لقينهم وبنيانهم، فقال رسول اللَّه ﷺ: "إلا (الإذخر) (٤)] (٥) " (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یہ مکہ مکرمہ حرم ہے، اللہ تعالیٰ نے جس دن زمین و آسمان کو پیدا فرمایا اس دن اس کو حرم بنایا اور اس کو دو لکڑیوں (شہتیریوں) پر رکھا، میرے سے پہلے اور میرے بعد یہ کسی کے لیے حلال نہیں ہوا اور میرے لیے بھی دن کے کچھ حصہ میں حلال ہوا تھا، اس کے کانٹوں کو نہیں اکھیڑا جائے گا اور اس کے شکار کو نہیں بھگایاجائے گا اور اس کی گھاس وغیرہ (جڑی بوٹیاں) نہیں کاٹی جائیں گی اور اس میں گری ہوئی چیز نہیں اٹھائیں گے، سوائے اس کی تشہیر کرنے کے۔ حضرت عباس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مکہ والے تعمیرات کے سلسلہ میں اذخر پر صبر نہیں کرسکتے (اس کو وہ ضرور کاٹیں گے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوائے اذخر کے (اس کو کاٹ سکتے ہیں) ۔

حواشی
(١) في [ص]: (عن عبد الملك عن عبد اللَّه)، وفي [جـ]: (عبد اللَّه).
(٢) في [ن]: (أحلها).
(٣) سقط من: [ن]، وفي [ز]: بدل ما بين القوسين (إلا).
(٤) في [أ]: (الأذخر).
(٥) سقط من: [ص].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14652
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لحال يزيد، أخرجه الدارقطني ٤/ ٢٣٥، وابن جرير في التفسير ١/ ٥٤٢، والطحاوي ٢/ ٢٦٠، والأزرقي ٢/ ١٢٦، والفاكهي (٢٣٦٦)، وأصله عند البخاري (١٨٣٤)، ومسلم (١٣٥٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14652، ترقيم محمد عوامة 14290)