حدیث نمبر: 14645
١٤٦٤٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن العوام عن هلال بن (خباب) (١) عن عكرمة عن ابن عباس: أن ضباعة ابنة الزبير بن عبد الطلب أتت النبي ﷺ (فقالت) (٢): [يا رسول اللَّه إني أريد الحج أفأشترط؟ قال: "نعم، اشترطي"] (٣)، كيف أقول؟ (قال) (٤): "قولي: لبيك (اللهم لبيك) (٥) محلي من الأرض حيث (حبستني) (٦) " (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضرت ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں حج کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں تو کیا میں اس کے لیے کوئی علامت مقرر کرلوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہاں مقرر کرلو، انھوں نے عرض کیا کہ میں کیا کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ یوں کہہ : لَبَّیْکَ اللَّہُمَّ لَبَّیْکَ اور احرام اس جگہ سے باندھ جہاں سے تجھے روکا گیا تھا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ن]: (حباب).
(٢) في [ز، ن]: (قالت).
(٣) سقط من: [جـ، ن].
(٤) سقط من: [ص].
(٥) سقط من: [ص].
(٦) في [أ]: (حبسني).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14645
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ هلال ثقة، أخرجه مسلم (١٢٠٨)، وأحمد (٣١١٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14645، ترقيم محمد عوامة 14283)