حدیث نمبر: 14583
١٤٥٨٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن ابن جريج عن عطاء قال: (أرأيت) (١) إن (صلاها) (٢) (في الطريق) (٣) قال: لا بأس ⦗٢٢٩⦘ (قال) (٤): قلت: أرأيت إن صلى المغرب في الطريق والعشاء بجمع، قال: لا بأس.مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے عرض کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے اگر میں مغرب و عشاء کی نماز راستہ میں ادا کروں ؟ آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں، میں نے عرض کیا کہ آپ کی کیا رائے ہے اگر میں مغرب کی نماز راستہ میں ادا کرلوں اور عشاء کی نماز مزدلفہ میں ؟ آپ نے فرمایا کوئی حرج نہیں۔
حواشی
(١) في [ص]: (رأيت).
(٢) في [أ، جـ، ص، ز]: (صلاهما).
(٣) في [جـ، ص]: (بالطريق).
(٤) سقط من: [جـ، ص، ز].