حدیث نمبر: 14499
١٤٤٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا عباد بن (العوام) (١) عن حصين عن مجاهد أن النبي ﵇ لقي قوما فيهم (حادٍ) (٢) يحدو، فلما (رأوا) (٣) النبي ﵇ سكت حاديهم، (فقال) (٤): "من القوم؟ " (فقالوا) (٥): من مضر (٦)، فقال رسول اللَّه ﷺ: " (وأنا من مضر) (٧) " (فقال رسول اللَّه ﷺ: " [ما شأن حاديكم لا يحدو؟ " فقالوا: يا رسول اللَّه] (٨) إنا أول العرب حداء، قال: "ومِمَّ ذلك؟ " (٩) قال: إن رجلًا منا -وسموه (له) (١٠) - غرب عن أبله في أيام الربيع فبعث غلاما له مع الإبل (قال) (١١): فأبطأ الغلام، فضربه بعصى على يده، فانطلق الغلام وهو يقول: ⦗٢٠٧⦘ يا يداه (يا يداه) (١٢) قال: فتحركت الإبل لذلك (ونشطت) (١٣)، قال: فقال له: أمسك أمسك، قال: (فافتتح) (١٤) الناس الحداء (١٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مجاہد سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک قوم سے ملاقات ہوئی جن میں حدی پڑھنے والے تھے، جب ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو ان کا حدی خوان خاموش ہوگیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا : کون سی قوم کے لوگ ہیں، لوگوں نے عرض کیا قبیلہ مضر میں سے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں بھی مضر میں سے ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ تمہارے حدی خوان کو کیا ہوا ہے کہ وہ حدی نہیں پڑھتا ؟ لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم عرب کے پہلے حدی خواں ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا یہ کس طرح شروع ہوا ؟ لوگوں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم میں ایک شخص تھا پھر اس کا نام لیا ایام ربیع میں اپنے اونٹ سے دور تھا، اس نے اپنے ایک غلام کو اونٹ کے ساتھ روانہ کیا، غلام کو دیر ہوگئی۔ اس پر اس نے غلام کے ہاتھ پر اپنی لاٹھی ماری تو غلام یہ کہتے ہوئے تیز تیز چلنے لگا کہ : ہائے میرا ہاتھ، ہائے میرا ہاتھ، غلام کے اس قول کی وجہ سے اونٹ میں بھی حرکت پیدا ہوئی اور وہ بھی تیز اور چست ہو کر چلنے لگا، اس شخص نے اس کو کہا رک جا، رک جا، پھر لوگوں نے (اس واقعہ کے بعد) حدی پڑھنا شروع کردی۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ص، ز]: (عوام).
(٢) في [أ، ب، ز، ن]: (حادي).
(٣) في [ب، ن]: (رأى).
(٤) في [ز]: (فقالوا).
(٥) في [جـ، ص]: (قالوا).
(٦) سقط من: [أ، ص، ن].
(٧) سقط من: [أ، ص، ن].
(٨) سقط من: [ص].
(٩) في [أ، ب]: (وهم ذاك)، وفي [جـ، ز]: (ومم ذاك)، وفي [ن]: (وهم ذلك).
(١٠) في [أ، ب، ن]: (لنا).
(١١) سقط من: [ز].
(١٢) زيادة من: [أ، ب، جـ].
(١٣) في [ص]: (بسطت).
(١٤) في [ص]: (تفتح)، وفي [جـ]: (فتح).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14499
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14499، ترقيم محمد عوامة 14148)