حدیث نمبر: 14265
١٤٢٦٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن سعيد بن السائب عن محمد بن السائب عن أبيه قال: رأيت عمر بن الخطاب رأى رجلًا يقول بامرأته على (بعير ترمي) (١) الجمرة قال: فعلاها بالدرة إنكارًا لركوبها (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اونٹ پر سوار جمرہ کی رمی کر رہا ہے، آپ نے اس کے سوار ہونے کو ناپسند کرتے ہوئے ان پر کوڑے کو بلند فرمایا۔

حواشی
(١) في [ص]: (في)، وفي [أ، ب، ن]: (بعير يرمي).
(٢) مجهول؛ لجهالة محمد والسائب.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 14265
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 14265، ترقيم محمد عوامة 13926)