مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من قال: إذا وقف بعرفة قبل أن يطلع الفجر فقد أدرك باب: جو شخص طلوع فجر سے پہلے عرفہ پہنچ گیا اس نے وقوف عرفہ کو پا لیا
١٤٢٠٠ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن إسماعيل بن أبي خالد عن (الشعبي) (١) عن (عروة) (٢) بن (مضرس) (٣) الطائي أنه حج على عهد النبي ﷺ فلم يدرك الناس إلا وهم بجمع، قال: فأتيت النبي ﷺ فقلت: يا رسول اللَّه أتعبت نفسي وأنصبت راحلتي واللَّه ما (تركت) (٤) جبلًا من الجبال إلا (وقد) (٥) وقفت عليه فهل لي من حج؟ فقال رسول اللَّه ﷺ: "من صلى معنا هذه الصلاة وقد أفاض قبل ذلك من عرفات ليلًا أو (نهارًا) (٦) فقد قضى تفثه وتم حجه" (٧).حضرت عروہ بن مضرس الطائی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں حج کیا، وہ لوگوں کو نہ پا سکے مگر جبکہ وہ مزدلفہ میں تھے، پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میں نے اپنے نفس کی پیروی کی اور اپنی سواری کو تھکا دیا، اور اللہ کی قسم میں نے کوئی پہاڑی نہیں چھوڑی مگر اس پر قیام کیا، کیا میرا حج مکمل ہوگیا ؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس نے ہمارے ساتھ یہ نماز ادا کی اور عرفات سے منیٰ کی طرف چلا اس سے پہلے دن یا رات میں تحقیق اس کی گندگی دور ہوگئی اور اس کا حج مکمل ہوگیا۔