مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
الرجل يجعل عليه (المشي) إلى بيت (الله) فيمشي بعض الطريق ثم يعجز باب: کوئی شخص نذر مانے کہ وہ پیدل بیت اللہ جائے گا، پھر وہ کچھ سفر طے کر کے عاجز آ جائے
حدیث نمبر: 14094
١٤٠٩٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا يعلي بن عبيد عن الأجلح عن عمرو بن سعيد البجلي قال: كنت تحت منبر ابن الزبير وهو عليه، فجاء رجل (وقال) (١): يا أمير المؤمنين، إني نذرت أن أحج ماشيًا حتى إذا كان كذا وكذا خشيت أن يفوتني الحج فركبت، قال: لا (خطأ) (٢) (عليك) (٣) ارجع (عام قابل) (٤) فامش ما ركبت واركب ما مشيت (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عمرو بن سعید البجلی فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن زبیر کے پاس بیٹھا ہوا تھا آپ منبر پر تشریف فرما تھے، ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ اے امیرالمؤمنین ! میں نے پیدل حج کرنے کی نذر مانی تھی، جب میں نے اتنا اتنا سفر پیدل طے کیا تو مجھے خوف ہوا کہ کہیں مجھ سے حج قضا ہی نہ ہوجائے تو میں سوار ہوگیا، آپ نے ارشاد فرمایا : تجھ پر کوئی گناہ نہیں ہے، آئندہ سال دوبارہ حج کرو اور جتنا سوار ہو کر سفر کیا ہے وہ پیدل کرلینا اور جتنا پیدل کیا ہے وہ سوار ہو کر کرلینا۔
حواشی
(١) في [جـ، ص، ز]: (فقال).
(٢) في [ص]: (خطاء).
(٣) في [أ، ب، ن]: (عنك).
(٤) في [ص]: (قام قاتل).
(٥) مجهول؛ لجهالة عمرو بن سعيد البجلي.