مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
الرجل يجعل عليه (المشي) إلى بيت (الله) فيمشي بعض الطريق ثم يعجز باب: کوئی شخص نذر مانے کہ وہ پیدل بیت اللہ جائے گا، پھر وہ کچھ سفر طے کر کے عاجز آ جائے
حدیث نمبر: 14088
١٤٠٨٨ - حدثنا أبو (بكر) (١) قال: حدثنا أبو خالد وابن فضيل عن يحيى بن سعيد عن (عبيد اللَّه) (٢) بن (زحر) (٣) عن أبي سعيد الرعيني عن (عبد اللَّه) (٤) ⦗١١٠⦘ (بن) (٥) مالك عن عقبة بن عامر الجهني، قال: نذرت أختي أن تمشي إلى بيت اللَّه حافية غير (مختمرة) (٦) (فسألت) (٧) النبي ﷺ فقال: " (مر) (٨) أختك (فلتختمر ولتركب) (٩) ولتصم ثلاثة أيام" (١٠).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عقبہ بن عامر الجھنی سے مروی ہے کہ میری بہن نے نذر مانی کہ وہ پیدل برہنہ سر بیت اللہ جائے گی، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے متعلق دریافت فرمایا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اپنی بہن سے کہو کہ چادر اوڑھ کر سوار ہو کر جائے اور تین روزے رکھے۔
حواشی
(١) في [جـ]: (بسر).
(٢) في [ص]: (عبد اللَّه).
(٣) في [ص]: (زجر).
(٤) في [أ، ن]: (عبيد اللَّه).
(٥) سقط (بن) من: [أ، ب، ن].
(٦) في [ص]: (تختمره)، وفي [ن]: (مختصره).
(٧) في [جـ، ص]: (فسألنا).
(٨) في [ص]: (من).
(٩) في [جـ، ص]: (فلتركب ولنختمر).