مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من كره الطيب عند الإحرام باب: جن حضرات نے احرام باندھتے وقت خوشبو لگانے کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 14013
١٤٠١٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا محمد بن قيس عن بشير بن (يسار) (١) الأنصاري قال: لما أحرموا وجد عمر ريح طيب، فقال: (ممن) (٢) (هذا) (٣) الريح؟ فقال البراء بن عازب: مني يا أمير المؤمنين، قال: قد علمنا أن امرأتك (عطرة) (٤) أو عطارة إنما الحاج (الأذفر الأغبر) (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت بشیر بن یسار الانصاری فرماتے ہیں کہ جب سب حضرات نے احرام باندھا تو حضرت عمر نے خوشبو محسوس کی، تو دریافت فرمایا : یہ خوشبو کس سے آرہی ہے ؟ حضرت براء بن عازب نے فرمایا اے امیر المؤمنین ! مجھ سے آرہی ہے، آپ نے فرمایا ہمیں معلوم ہے کہ تیری اھلیہ عطر فروش ہے لیکن حاجی تو پراگندہ اور غبار آلود ہوتے ہیں۔
حواشی
(١) في [ص]: (يصار).
(٢) في [ز]: (من).
(٣) في [جـ، ز، ص]: (هذه).
(٤) في [ب، ن]: (عطرت)، وفي [ف]: (عطرتك).
(٥) في [ص]: (الأمراء لا غير).