مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
من كره الطيب عند الإحرام باب: جن حضرات نے احرام باندھتے وقت خوشبو لگانے کو ناپسند کیا ہے
حدیث نمبر: 14012
١٤٠١٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع قال: حدثنا مسعر وسفيان عن إبراهيم بن محمد بن المنتشر (عن أبيه) (١) قال: سمعت ابن عمر يقول: لأن أصبح [يعني (مطليًا) (٢) (بقطران) (٣) أحب إلي من أن أصبح] (٤) محرمًا (أنضح) (٥) طيبًا (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما ارشاد فرماتے ہیں کہ میں اس حال میں صبح کروں کہ میں اپنے اوپر تار کول ملوں یہ مجھے اس بات سے زیادہ پسند ہے کہ میں اس حال میں صبح کروں کہ میں حالت احرام میں ہوں اور مجھ سے خوشبو ٹپک رہی ہو۔
حواشی
(١) سقط من: [ص].
(٢) في [جـ]: (مطلبًا)، وفي [ن]: (مطيبًا).
(٣) في [ن]: (بقطر).
(٤) سقط ما بين المعكوفين من: [ص].
(٥) في [أ، ب، جـ، ز]: (أنضح)، وفي [ن]: (أنفخ)، وفي [ص]: (وأنفح).