حدیث نمبر: 1391
١٣٩١ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن أبي يزيد المدني قال: (حدثني) (١) أحد الصيادين قال: لما قدم عمر أمير المؤمنين (الجار) (٢) يتعاهد طعام الرزق، قال: ⦗٢٧٧⦘ قلت: يا أمير المؤمنين إنا نركب أرماثنا هذه، فنحمل معنا الماء (للشفة) (٣) فيزعم أناس أن ماء البحر لا يطهر! فقال: وأي ماء أطهر منه (٤).
مولانا محمد اویس سرور

ایک ماہی گیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیر المؤمنین حضرت عمر مقام جار پر تشریف لائے تو میں نے عرض کیا اے امیر المؤمنین ! ہم اپنی کشتیوں پر سوار ہوتے ہیں اور اپنے ساتھ پینے کے لیے تھوڑا سا پانی بھی لے لیتے ہیں۔ لوگوں کا خیال ہے کہ سمندر کا پانی پاک نہیں کرتا۔ حضرت عمر نے فرمایا اس سے زیادہ پاک پانی کون سا ہوسکتا ہے ؟

حواشی
(١) في [أ، جـ، خ، د، ك، هـ]: (أحدثني).
(٢) في [خ]: (الحار).
(٣) في [د، هـ]: (الشقة).
(٤) مجهول؛ لجهالة الصياد، وأخرجه عبد الرزاق (٣٢٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1391
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1391، ترقيم محمد عوامة 1390)