مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في قوله تعالى: ﴿فجزاء مثل ما قتل من النعم﴾ باب: اللہ پاک کا ارشاد {فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ} کی تفسیر کے متعلق جو وارد ہوا ہے
١٣٨٤٢ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا جرير عن منصور عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس ﴿فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾ إلى قوله: ﴿أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا﴾، ⦗٤٧⦘ قال: إذا أصاب المحرم الصيد حكم عليه بجزائه من النعم، فإن لم يجد نظر كم (ثمنه؟) (١) ثم (قوم) (٢) ثمنه طعامًا، فصام مكان كل نصف صاع يوما ﴿أَوْ كَفَّارَةٌ طَعَامُ مَسَاكِينَ أَوْ عَدْلُ ذَلِكَ صِيَامًا﴾ (٣) [المائدة: ٩٥]، قال: إنما أريد بالطعام (الصيام) (٤) أنه (إذا) (٥) وجد الطعام وجد جزاؤه (٦).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے ارشاد { فَجَزَآئٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ } سے لے کر { اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا } کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب محرم شکار کرے تو اس پر اس کی جزاء اونٹ کا حکم دیا جائے گا، اور اگر وہ اونٹ نہ پائے تو شکار کی قیمت دیکھے کہ کتنی ہے ؟ پھر اس کی قیمت کو کھانے کے ساتھ متعین کرے اور ہر نصف صاع کے بدلے ایک روزہ رکھے، اور اللہ پاک کے ارشاد { اَوْ کَفَّارَۃٌ طَعَامُ مَسٰکِیْنَ اَوْ عَدْلُ ذٰلِکَ صِیَامًا } میں کھانے کا روزے کے ساتھ ارادہ کیا گیا ہے، جب وہ کھانے کو پالے تو اس نے شکار کی جزاء کو پا لیا۔