مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الحج
في الرجل يشك في الطواف وفي (رمي) الجمار (ما) (يصنع) باب: کسی شخص کو طواف یا رمی کرتے وقت شک ہو جائے تو وہ کیا کرے؟
١٣٨٤١ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن عمران بن حدير عن أبي (مجلز) (١) قال: رميت الجمار فلم أدر بكم رميت؟ فسألت ابن عمر، فلم يجبني، فمر بي ابن الحنفية، فسألته، فقال: (يا) (٢) (٣) عبد اللَّه ليس شيء أعظم علينا من الصلاة وإذا نسي أحدنا أعاد (فأخبرت) (٤) ابن عمر، فقال: إنهم أهل بيت مفهمون (٥).حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ میں جمرات کی رمی کے دوران بھول گیا کہ میں نے کتنی رمی کی ہے، میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا تو آپ نے مجھے کوئی جواب نہ دیا، پھر میرے پاس سے حضرت ابن الحنفیہ گذرے تو میں نے ان سے دریافت کیا ؟ آپ نے فرمایا کہ اے عبد اللہ ! ہمارے نزدیک نماز سے معظم کوئی شیء نہیں ہے جب ہم میں سے کوئی شخص نماز میں بھول جائے تو وہ نماز کا اعادہ کرتا ہے، حضرت ابو مجلز فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کو اس جواب کی خبر دی تو آپ نے فرمایا : بیشک وہ اہل بیت میں سے ہیں امور صحیح طور پر ان کو سمجھائے گئے ہیں۔