حدیث نمبر: 13799
١٣٧٩٩ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا أبو أسامة عن محمد بن أبي إسماعيل قال: خرج سعيد بن جبير من منى (بالهجير) (١)، فطاف (أسبوعًا بالبيت) (٢)، وصلى الركعتين، ثم أتى السقاية فسقانا محمد بن (علي) (٣) نبيذًا، فشرب منه سعيد بن جبير وسقاني.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن اسماعیل فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن جبیر سخت گرمی میں منیٰ سے نکلے اور بیت اللہ کے سات چکر لگائے اور دو رکعتیں ادا کیں پھر پانی پلانے والا برتن لایا گیا اور ہمیں محمد بن علی رضی اللہ عنہ نے نبیذ پلایا، اس میں سے حضرت سعید بن جبیر نے پیا اور پھر مجھے پلایا۔ ! سقایہ سے مراد خادمین حرم مکی کا وہ محکمہ ہے جس کے ذمے حجاج کرام کو پانی پلانا ہے۔

حواشی
(١) في [ن، ف]: (بالهجر).
(٢) في [ز]: (بالبيت أسبوعًا).
(٣) سقط من: [ص].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13799
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13799، ترقيم محمد عوامة 13484)