حدیث نمبر: 13754
١٣٧٥٤ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (أبو سامة) (١) عن هشام عن (شميسة) (٢) الأزدية (قالت) (٣): دخلت على عائشة وأنا محرمة وأنا أشتكي عيني، فقالت: هلمي (أيحلك) (٤) ومعها محارة فيها صج، (فأبيت) (٥) عليها (فندمت) (٦) بعد (ألا) (٧) أكون تركتها (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شمیسہ الازدیہ فرماتی ہیں کہ میں حالت احرام میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی میری آنکھوں میں تکلیف تھی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : قریب آؤ تمہاری آنکھوں میں سرمہ (دوائی) لگاؤں ان کے پاس ایک سپی نما خول تھا جس میں ایلوا موجود تھا، میں نے ان کی بات نہ مانی اور انکار کردیا پھر بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی کہ کاش میں اس کو نہ چھوڑتی (اور لگوا لیتی) ۔

حواشی
(١) في [ص]: (أسامت).
(٢) في [أ، ب، ن]: (شمسية) وفي [ص]: (شميشة).
(٣) في [ص]: (قا)، وفي [ن]: (قال).
(٤) في [ص]: (أكتحلك).
(٥) في [أ، ن]: (فأتيت).
(٦) في [أ، ب]: (فقدمت).
(٧) في [أ، ب، ن]: (إلا أن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الحج / حدیث: 13754
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ شميسة ثقة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 13754، ترقيم محمد عوامة 13443)