حدیث نمبر: 1374
١٣٧٤ - حدثنا يزيد بن هارون قال: حدثنا شريك عن عبد اللَّه بن محمد بن عقيل عن إبراهيم بن محمد بن طلحة عن عمه عمران بن طلحة عن (أمه) (١) (حمنة) (٢) ابنة جحش: أنها استحيضت على عهد رسول اللَّه ﷺ فأتت رسول اللَّه ﷺ فقالت: يا رسول اللَّه إني (استحضت) (٣) حيضة منكرة شديدة، فقال لها: ⦗٢٧٣⦘ "احتشي كرسفا"، قالت: إنه أشد من ذلك إني أثج ثجا، قال: "تلجمي، وتحيضي في كل شهر في علم اللَّه ستة أيام، أو سبعة ثم اغتسلى غسلا، وصلي، وصومي ثلاثًا وعشرين، أو أربعا وعشرين، وأخري الظهر، وقدمي العصر، (واغتسلي لهما غسلا) (٤) وأخري المغرب، وقدمي العشاء، واغتسلى لهما غسلا، وهذا أحب الأمرين إليّ" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حمنہ بنت جحش فرماتی ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں مستحاضہ ہوگئیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ مجھے انتہائی شدید استحاضہ لاحق ہوگیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ روئی کو اچھی طرح کپڑے کے ساتھ باندھ لو۔ انہوں نے عرض کیا کہ وہ اس سے بہت زیادہ ہے اور بہہ رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کپڑے کی لگام ڈال لو اور ہر مہینے اللہ کے علم کے مطابق چھ یا سات دن حیض کے گزارو پھر غسل کرو اور تیئس یا چوبیس دن نماز پڑھو اور روزے رکھو۔ ظہر کو مؤخر کرو اور عصر کو جلدی پڑھو اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرو۔ پھر مغرب کو مؤخر کرو اور عشاء کو مقدم کرو اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرو۔ یہ دونوں باتوں میں سے میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے۔

حواشی
(١) في [أ، خ، د، هـ]: (أم).
(٢) في [أ]: (حمية).
(٣) في [خ]: (استحيضت).
(٤) سقط من: [أ، خ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الطهارة / حدیث: 1374
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف ابن عقيل، أخرجه أحمد (٢٧١٤٤) وابن ماجه (٦٢٢) والحاكم ١/ ١٧٢، وعبد الرزاق (١١٧٤) والطبراني ٢٤ (٥٥١) والدارقطني ١/ ٢١٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 1374، ترقيم محمد عوامة 1373)